مالِ مرہون (گروی شدہ چیز) سے نفع لینے کا حکم
سوال
شے مرہونہ سے نفع لینا کیسا ہے؟
جواب
از رُوئے شرع مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی گئی ہے) کے لیے مالِ مرہون (گروی شدہ چیز) سے نفع (فائدہ) اٹھاناجائز نہیں ہے، اگرچہ راہن (گروی رکھنے والا) کی اجازت سے ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لايحلّ له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا".
(فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

