بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالِ مرہون (گروی شدہ چیز) سے نفع لینے کا حکم

سوال

شے مرہونہ سے نفع لینا کیسا ہے؟

جواب

 از رُوئے شرع مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی گئی ہے) کے لیے مالِ مرہون (گروی شدہ چیز) سے نفع (فائدہ) اٹھاناجائز نہیں ہے، اگرچہ راہن (گروی رکھنے والا)  کی  اجازت سے ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لايحلّ له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا".

(فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201136
تاریخ11-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں