بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتا، گدھا اور بلی کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

کیا حرام جانور (کتا، گدھا، بلی وغیرہ) کی خرید و فرخت منافع حاصل کرنے کے لیے جائز ہے؟ 

جواب

جس کتے سے انتفاع جائز ہے (مثلاً وہ تعلیم قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے شکار یا حفاظت کا کام لیا جاسکتا ہے)  اس کی خرید و فروخت  جائز ہے، اور جس کتے سے انتفاع جائز نہیں اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں۔

اور گدھے اور بلی  کی خرید و فروخت جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 68):

"وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه. والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى، واعتمده المصنف وسيجيء في المتفرقات.

لكن في الخانية: بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور، وسباع الوحش والطير جائز معلمًا أو غير معلم، وبيع الفيل جائز. وفي القرد روايتان عن أبي حنيفة اهـ ونقل السائحاني عن الهندية: ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير وهو المختار اهـ وعليه مشى في الهداية وغيرها من باب المتفرقات كما سيأتي."

الفتاوى الهندية (3/ 114):

’’وبيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلاً للتعليم وإلا فلا، وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201098
تاریخ10-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں