بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہم بستری کے دوران خون آنے کی وجہ سے نماز کا حکم

سوال

میں نے اپنی زوجہ سے ہم بستری کی اور اس دوران ہمیں کچھ خون نظر آیا اور یہ عادتاً حیض کے ایام نہیں تھے، لیکن خون دیکھنے کے بعد شک ہو گیا، تو اب میری بیوی نے غسل کر کے کچھ دیر انتظار کیا اور جب واضح نہ ہوا تو نماز پڑھ لی، آیا یہ درست کیا یا غلط، اگر غلط کیا تو صحیح کیا ہے؟

جواب

اگر یہ ایام آپ کی اہلیہ کے ماہواری کے ایام نہیں تھے اور دورانِ ہم بستری کچھ خون نظر آیا، پھر نہیں آیا تو ایسی صورت میں اس خون کو ماہواری کا خون نہیں کہا جائے گا اور اس کی وجہ سے نماز وغیرہ بھی ساقط نہ ہو گی، لہذا آپ کی اہلیہ نے خون بند ہو جانے کے بعد جو نمازیں غسل کر کے پڑھ لیں، وہ درست عمل تھا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201060
تاریخ10-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں