بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر محرم معلمہ پڑھائے تو کیا کرے؟

سوال

اگر کلاس میں خاتون معلمہ پڑھا رہی ہوں تو میں کیا کروں؟ میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں پڑھنے والے لڑکوں  کے لیے لازم ہے کہ مطلوبہ شعبہ سے متعلق جب تک کوئی دوسرا ادارہ میسر ہو  جہاں اختلاط نہ ہو  وہاں تعلیم حاصل کریں، خواہ وہ ادارہ اس قدر مشہور نہ ہو  اور اگر ایسا ادارہ میسر نہ ہو  اور  مخلوط تعلیمی ادارے میں ہی تعلیم حاصل کرنا  ناگزیر ہو تو  درج ذیل امور کا لحاظ کریں:

1- کسی بھی اجنبی عورت خواہ ٹیچر ہوں یا طالبہ  کے ساتھ اکیلے کمرے میں نہ رکیں اور نہ ہی اکیلے ملاقات کریں۔

2-  خواتین کے چہرے کی طرف نگاہ نہ کی جائے۔ 

3- نیز لڑکیوں کے ساتھ پڑھائی کرنے کے بجائے صرف لڑکوں کے ساتھ مل کر ہی پڑھائی کریں۔

4-  مجبوراً کبھی کسی غیر محرم عورت سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائےتو  بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت بات کرنا جائز ہے،  بلاضرورت جائز نہیں، ہنسی مزاح کرنے یا اس کا جواب دینے کی کوئی گنجائش نہیں، سخت گناہ ہے،  بلاضرورت دیکھنا بھی جائز نہیں حتیٰ الامکان حفاظتِ نظر بھی ضروری ہے۔  

مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں : 

مخلوط تعلیم گاہ میں پڑھنے کا حکم

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204201001
تاریخ09-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں