بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امِ ہانی کو ہانی پکارنا

سوال

میری بھتیجی کا نام "ام ہانی" ہے، اور میں نے سنا ہے کہ یہ ایک صحابیہ کا نام ہے، لیکن میرے گھر والے اس کا نام آدھا لیتے ہیں، یعنی کہ ہانی، تو کیا کسی کا آدھا نام لے کر اسے پکارنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نام اگر پیار سے گھٹا، بڑھا لیے جائیں  اور اس کا مقصد  محبت کا اظہار  ہو، اور جس کو پکارا جائے وہ بھی اس کو محبت ہی تصور کرتا ہو، اور اس سے اس کی توہین مقصود نہ ہو  اور اس سے معنی میں فساد نہ آئے  تو  اس کی گنجائش ہے،مذکورہ بالا غرض سے "ام ہانی" کو "ہانی" کہنے  کی گنجائش ہے۔

المجموع شرح المهذب (8/ 442):

"(الثامنة): اتفقوا على جواز ترخيم الاسم المنتقص إذا لم يتأذّ بذلك صاحبه ثبت أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم (رخّم أسماء جماعة من الصحابة، فقال لأبي هريرة: يا أباهر، ولعائشة: يا عائش، ولأنجشة: يانجش ".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200996
تاریخ09-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں