بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث: ایک بیوہ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں

سوال

ایک شخص کے مندرجہ ذیل وارثوں میں جائیداد کی تقسیم کس حساب سے ہو گی: ایک بیوہ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں؟

جواب

مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ  یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو (مثلاً بیوی کا مہر وغیرہ) تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 64 حصوں میں تقسیم کرکے 8 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہر بیٹے کو اور 7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو 12.50%، ہر بیٹے کو 21.88% اور ہر بیٹی کو 10.94% ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200991
تاریخ08-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں