بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نویرہ نام

سوال

"نویرہ" نام کیسا ہے؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ یہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

 عربی زبان میں ”نُوَيْره“ (نُوَيْره) مذکر ناموں کے لیے استعمال ہوتا ہے،  جس کے معنی: چھوٹی سی آگ، یا چھوٹا سا انگارہ، یا سفید پھول، جس کو موسم بہار کا پھول کہا جاتا ہے۔

بچی کا نام "نُوَیْرہ" رکھا تو جاسکتاہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ  اس نام کے بجائے بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک مسلمان  خواتین کے ناموں میں سے کسی نام پر یا اچھا بامعنی عربی نام رکھ لیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200990
تاریخ08-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں