بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’اقرا‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

’’اقرا‘‘ نام رکھنا چاہیے یا نہیں ؟

 

جواب

’’اقرا‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’پڑھ‘‘، یہ لفظ عربی لغت کے اعتبار سے اسم نہیں ہے، بلکہ فعلِ امر مذکر کا صیغہ  ہے، جب کہ نام والا لفظ اسم ہونا چاہیے، اس لیے ’’اقرا‘‘ نام  رکھنا عربی قواعد کے اعتبار سے درست نہیں ہے؛  بچی کا نام ’’اقرا‘‘ رکھنے کے بجائے صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر بچی کا نام رکھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200937
تاریخ07-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں