بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طالب علم سے ضبط کردہ اشیاء کے استعمال کا حکم

سوال

استاذ جب طالب علم سے کوئی غیر ماذون چیز لے لے تو اب اس کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے کہ نہیں؟

جواب

طالب علم سے  ضبط كرده اشياء (جيسے موبائل، ميموری كارڈ وغيره) استاذ كے پاس امانت هيں، طالب علم كي دلی رضامندی كے بغير ان كا استعمال درست نهيں هے، اگراستاذ نے  طالب علم كي اجازت كے بغير استعمال كيا اور وه چيز ضائع هوگئي تو استاذ اس كا ضامن هوگا۔ ایسی ضبط کردہ اشیاء طالب علم کی واپسی کے وقت اسے لوٹادینی چاہییں۔

الموسوعة الفقيه(55/43):

"أَمَّا إِذَا اسْتَعْمَل الْوَدِيعُ الْوَدِيعَةَ بِغَيْرِ إِذْنِ رَبِّهَا، فَقَدِ اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى أَنَّ فِعْلَهُ هَذَا تَعَدٍّ يَسْتَوْجِبُ ضَمَانَهُ."

 فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200890
تاریخ06-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں