بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ سے نکلی انعامی رقم کا حکم

سوال

ہمارا پرائز بانڈ سے انعام نکلا تھا، ان پیسوں سے ہم نے گھر میں کلر کروا لیا، اس کے بعد اندازا ہوا کہ ایسا ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا تو اب کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پرائز بانڈ کی اصل رقم کے علاوہ جتنی رقم اضافی نکلی تھی، سود ہونے کی وجہ سے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہ تھا، بلکہ صدقہ کرنا  واجب تھا، لہذا اب اتنی ہی رقم ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحقِ زکاۃ کو دے دی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200860
تاریخ05-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں