بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک پانی سے اگنے والی سبزیوں کا استعمال

سوال

 میں نے ایک کھیت میں سبزی کاشت کی ہے، اور اُس کھیت میں سبزی کو جو پانی لگاتا ہوں، وہ گاؤں کی نالیوں سے بہہ کر آنے والا کالا اور بدبُودار پانی ہے، لوگوں کا پیشاب/ پاخانہ بھی اور غسل کا پانی بھی اسی پانی میں بہہ کر آتا ہے۔ کیا اتنے نجس پانی سے پروان چڑھنے والی سبزی خاص کر مولی، گاجر جو زیرِ زمین پیدا ہوتی ہے، اُن کا کھانا جائز ہے؟

جواب

ناپاک پانی سے سیراب  کیے گئے کھیت کی سبزی کھانا جائزہے، اور اکثر فقہاءِ کرام کے ہاں مکروہ بھی نہیں ہے، بشرطیکہ وہ مضرِ صحت نہ ہو۔ باقی  اگر  سبزی ناپاک پانی سے تر ہو تو  استعمال سے پہلے اُسے دھو کر پاک کرنا ضروری ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فرع  في أبي السعود: الزروع المسقية بالنجاسات لاتحرم ولاتكره عند أكثر الفقهاء."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين 6/ 341)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200849
تاریخ05-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں