بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ احرام میں بیوی کے بال کاٹنے کا حکم

سوال

میں نے حالت احرام میں اپنی بیوی کا عمرہ ختم ہونے کے بعد اس کے بال کاٹے ابھی میرا عمرہ مکمل نہیں ہوا تھا. اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں کسی غیر مُحرم (حلال) شخص کے بال کاٹ دیتا ہے تو ایسے شخص کے اوپر صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے، صدقہ سے مراد  صدقہ فطر  یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے برابر صدقہ کرنا واجب ہوگا، لیکن اگر بال کاٹنے والا خود بھی افعالِ عمرہ سے فارغ ہو گیا ہو، صِرف بال کاٹنا/ حلق کروانا باقی ہو اور ایسی حالت میں اُس نے کسی حلال کے بال کاٹ دیے تو اس پر کچھ لازم نہ ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے افعالِ عمرہ مکمل نہیں ہوئے تھے اور آپ نے اپنی اہلیہ کے بال کاٹ دیے تو آپ کے اوپر صدقہ کرنا لازم ہو گا اور اگر افعالِ عمرہ مکمل کر لینے کے بعد حلق کروانے سے پہلے آپ نے اپنی اہلیہ کے بال کاٹے ہوں تو کچھ لازم نہ ہو گا۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 169):

"وإن حلق المحرم رأس غيره أو قص أظافير غيره فعليه صدقة."

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 293):

"حلق (رأس غيره) بأمره أو بغير أمره فعلى الحالق صدقة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200832
تاریخ05-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں