بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی کم سے کم مقدار

سوال

آج کے دور میں حقِ مہر کی کم سے کم مقدارکتنی ہے؟ کیا 5000 حق مہر مقرر کرنا جائز ہے؟

جواب

مہر  کی کم سے کم مقدار 10درہم کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت ہے۔  اور 10 درہم کا وزن 2تولہ ساڑھے سات ماشہ ہے، اور موجودہ وزن کے مطابق  اُس کی مقدار 30  گرام 618 ملی گرام ہوتی ہے، اس سے کم مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا، آج کل (15 دسمبر 2020) چاندی کی  جو قیمت ہے اس قیمت کے اعتبار سے پانچ ہزار (5000) روپے مہر رکھنا جائز ہے۔ باقی عورت کا اصل حق "مہرمثل" ہے، "مہر مثل"  کا مطلب یہ ہے کہ جتنا لڑکی کے باپ کے خاندان میں اس جیسی لڑکیوں کا مہر ہوتاہے، ا تنا ہی مہر اس لڑکی کا بھی ہونا چاہیے، مگر "مہرمثل" سے کم یا زیادہ بھی رکھ سکتے ہیں۔

مالی گنجائش ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ "مہر فاطمی"  کی مقدار (ایک سو، سوا اکتیس (131/25)تولہ  چاندی یا اس کی قیمت) مہر مقرر کیا جائے۔ چاندی  کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے،  بوقتِ ادا اس کے مطابق قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200823
تاریخ05-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں