بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومتی گھر اسکیم سے گھر کے لیے قرضہ لینا

سوال

حکومتی ایک کروڑ گھر سکیم سے گھر کے لیے قرضہ لینا جائز ہے یا نا جائز؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ اسکیم میں گھر کے لیے قرضہ دینے کے بعد واپسی پر اضافی رقم بھی لی جاتی  ہو تو  (جیساکہ بینکوں کا طریقہ ہے) یہ سودی قرضہ ہوگا،  جس کا لین دین ناجائز اور حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

میزان بینک سے قرضہ لے کر حکومتی اسکیم میں مکان خریدنے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200783
تاریخ04-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں