بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے لیگل (قانونی) قرار دیئے جانے کی صورت میں کرپٹو کرنسی کا حکم

سوال

کرپٹو کرنسی سے پیسہ کمانا جائز ہے یا نہیں، اگر ملک میں اسے لیگل قرار دے دیا جائے؟

جواب

کرپٹو کرنسی کا معاملہ تاحال مشکوک اور زیر تحقیق ہے؛ اس لیے جب تک مستند مفتیانِ کرام کی طرف سے بالاتفاق اس کے جواز یا عدمِ جواز کا فتوی نہ دیا جائے، اس وقت تک اس کی خرید و فروخت سے اجتناب کیا جائے، چاہے اسے لیگل ہی کیوں نہ قرار دے دیا جائے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ جامعہ کے مفتیانِ کرام کی طرف سے کافی عرصے سے اس کرنسی کی مختلف حیثیتوں پر غور و خوض جاری ہے، اس کرنسی کی ایجاد و بناوٹ اور مائننگ سمیت دیگر فنی اعتبارات سے بھی اس کا جائزہ لیا گیا ہے، لیکن تاحال اسے کرنسی یا باقاعدہ مال قرار دے کر اس کے ذریعے  خرید و فروخت کے جواز پر اطمینان نہیں ہواہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200763
تاریخ03-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں