بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کی لیٹرین کا عمومی استعمال

سوال

 مدرسے کی لیٹرین کا استعمال عام لوگوں کے لیے  کیسا ہے؟ یعنی مدرسے کی لیٹرین کا جو پانی ہوتا ہے اس سے غسل کرنا، اس میں نہانا، کپڑے دھونا وغیرہ یا مثلًا مدرسے کے پاس کوئی دکان ہے اس کا دکاندار اس پانی سے کپڑے دھوتا ہے اس پر نہاتا ہے، اس پانی کو استعمال کرتا ہے، کیا یہ اس کے لیے جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مدرسے کے بیت الخلا اور ان میں موجود پانی  وغیرہ وقف ہیں، اگر واقف (وقف کرنے والے) نے یہ صرف مدرسے کے طلبہ کے لیے وقف کیے ہیں تو دکان دار کے لیے اس کے پانی وغیرہ کا استعمال ذاتی ضرورت کے  لیے درست نہیں۔ اور  اگر واقف نے مدرسے کے ساتھ اہلِ محلہ کے استعمال کی بھی اجازت دی تو  بیت الخلا اور اس کا پانی  اس دکان دار کے لیے استعمال کرنا جائز ہوگا۔

 "ویجوز أن یحمل ماء السقایة إلی بیته لیشرب أهله، کذا في قاضی خان." (فتاوی هندیه: ۳ / ۳۰۶)

" أن المعروف کالمشروط." (رد المحتار: ۳ / ۱۳۰)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200631
تاریخ01-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں