بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمین کا کھانے کا خرچہ زکاۃ کی مد میں دینا

سوال

میرا رہائشی ملازمین سے معاہدہ اس بات پر ہوا تھا کہ میں انہیں کھانے کے پیسے بھی دوں گا۔ کیا میں یہ پیسے زکاۃ کی مد میں دے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ ملازمین کے کھانے کا خرچہ ان کی اجرت میں شامل ہے اور اجرت کے پیسے زکاۃ کی مد میں نہیں دیے جاسکتے، اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوتی۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

"و لو دفعها المعلم لخلیفته إن کان بحیث یعمل له لو لم یعطه صح، و إلا لا.

(قوله: وإلا لا )؛ لأن المدفوع یکون بمنزلة العوض".

(ردالمحتار علی الدر 2/356)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200628
تاریخ01-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں