بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری مسجد میں سرکاری بجلی استعمال کرنے کا حکم

سوال

ایک مسجد جو کہ سرکاری تھانہ کی ہے اور اس مسجد کی بجلی بھی اسی سرکاری تھانہ سے آتی ہے، اور تقریبًا 20 یا 25 سال سے اس سرکاری مسجد میں سرکاری بجلی استعمال ہو رہی ہے، اب ایک نمازی کا کہنا ہے کہ یہ بجلی چوری کی ہے جو کہ جائز نہیں، حال آں کہ وہ مسجد سرکاری زمین میں ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب مذکورہ مسجد سرکاری تھانہ کی مسجد ہے، اور بجلی بھی سرکار (گورنمنٹ) کی طرف سے ہے، تو مذکورہ بجلی کو چوری کی بجلی کہنا صحیح نہیں ہے، لہذا مذکورہ بجلی مسجد کی ضروریات کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔

الموسوعة الفقهية میں ہے:

"السَّرِقَةُ: هِيَ أَخْذُ النِّصَابِ مِنْ حِرْزِهِ عَلَى اسْتِخْفَاءٍ."

(المادة:السرقة، ج:2، ص:288، ط: اميرحمزه كتب خانه)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200614
تاریخ30-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں