عشال نام رکھنے کا حکم
سوال
عشال نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب
«عِشال» "عین" کے نیچے زیر کے ساتھ عربی لغت میں استعمال نہیں ہوتا۔
«عَشّال» ( "عین" پر زبر اور "ش" پر تشدید کے ساتھ) اور «عاشل» کا معنی ہے: "اٹکل سے درست اندازا لگانے والا"۔ (لسان العرب)
یہ مرد کی صفت ہے، لڑکی کے لیے استعمال کیا جائے تو «عاشله» استعمال ہوگا۔ بچی کا نام "عاشلہ" رکھا جاسکتاہے، تاہم بہتر ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن کے اسماء میں سے کسی کے نام پر بچی کا نام رکھ دیں، اس میں برکت ہے۔
تاج العروس :
"الْعَاشِلُ : الْمُخَمِّنُ الذي يَظُنُّ فَيُصِيبُ كالْعاشِنِ والْعَاكِلِ، كَما في اللِّسَانِ، وأَهْمَلَهُ الْجَماعَةُ".
لسان العرب :
"العاشِلُ والعاشِنُ والعاكِلُ المُخَمَّن الذي يَظُنُّ فيُصِيب".
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

