بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں مشت زنی کرلی

سوال

 اگر کسی نے روزہ کی حالت میں روزہ بھول کر مشت زنی کی اور بعد میں یاد آیا تو روزہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کو اپنے روزہ سے ہونا واقعةً یاد نہ تھا اور  اس نے مشت زنی کرلی تو اس صورت میں اس کا روزہ فاسد نہیں ہوا، ملحوظ رہے کہ مشت زنی حرام ہے، جس پر توبہ و  استغفار ضروری ہے، مشت زنی کے حرام ہونے کے متعلق مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک میں موجود فتوی دیکھیے:

مشت زنی گناہ ہے

البناية شرح الهداية للعيني میں ہے:

"وكذا لو جامع في النهار ناسيًا لايفسد صومه."

( كتاب الصوم، باب الإعتكاف، ٤ / ١٣٤، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

ملتقي الأبحر للحلبي میں ہے:

"وَلَو أكل أَو شرب أَو جَامع نَاسِيًا لَايفْطر."

( كتاب الصوم،  بَاب مُوجب الْفساد، ص: ٣٥٩، ط: دار الكتب العلمية)

المقنع في فقه الإمام لابن قدامة میں ہے:

"ومن أكل أو شرب ... أو استمنى، أو قبل أو لمس فأمنى أو أمذى، أو كرر النظر فأنزل ... عامداً ذاكراً لصومه فسد صومه، وإِن فعله ناسياً أو مكرهاً لم يفسد."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم ويوجب الكفارة، ١ / ١٠٣، ط: مكتبة السوادي للتوزيع، جدة)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200589
تاریخ30-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں