بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بونڈ کی خرید و فروخت صحیح ہے؟

سوال

کیا بونڈ کی خرید و فروخت صحیح ہے؟ اور اگر صحیح نہیں ہے تو اس کا بدل کیا ہے؟

جواب

پرائز (انعامی) بونڈ سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے انعام اور نفع کی غرض سے کسی بھی قسم کے پرائز (انعامی) بونڈ خریدنا جائز نہیں ہے۔ بونڈ کا متبادل اگر بعینہ ہو یعنی ان ہی خواص و فوائد کے ساتھ ہو تو ظاہر ہے وہ بھی ناجائز ہی ہوگا، اور اگر شرعًا جائز حدود میں رہ کر منافع کمانا مقصود ہو تو اس کا طریقہ حقیقی تجارت میں انویسٹمنٹ ہے۔

تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل لنک دیکھیے:

پرائز بونڈ کا حکم؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200586
تاریخ30-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں