بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نوے برس کی عمر تک پہنچنے والے کے لیے ایک فضیلت کی تحقیق

سوال

 اس بات کی کیا دلیل ہے کہ جو شخص نوے برس کی عمر میں مرے تو وہ شہید  ہے ؟

 

جواب

تلاش بسیار کے باوجود سوال میں مذکور بات کی کوئی دلیل ہمیں نہیں ملی، البتہ اس کے قریب قریب  حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ملتی ہے، جس میں نوے برس کی عمر تک پہنچنے پر اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کا  ذکر ہے : 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ : الْجُنُونَ، وَالْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ، فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، وَشَفَعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ."

(مسند أحمد،  مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رقم الحديث: ١٣٢٧٩) 

لیکن علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے "الموضوعات"  میں لکھا ہے:

"هذا الحديث لايصح عن النبي صلى الله عليه وسلم. اهـ"

علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر محدثین مثلًا  قاضی شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوعات میں شمار کیا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

مختلف عمر کے مختلف فضائل سے متعلق روایت

  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200571
تاریخ29-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں