بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کارٹون کی تصویر والے موبائل پاؤچ کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

موبائل کے ایسے پاؤچ جن پر کارٹون والی تصویریں بنی ہوئی ہوتی ہیں ، ان کا بیچنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

 

جواب

اسلام میں جاندار کی  تصویر سازی کی سخت مذمت وارد ہوئی ہے، اور تصویر سازی حرام ہے ، اس لیے جان دار کی  تصویر  فروخت کرنا جائز نہیں ہے، لہذا ایسی چیزیں جن سے مقصود ہی تصویر کی خرید وفروخت ہو مثلًاجان دار کی  تصویر والے اسٹیکر، کھلاڑیوں وغیرہ کی تصویریں  تو ایسی چیزیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے،  اور جن چیزوں میں مقصود تصویر نہ ہو،  بلکہ تصویر اس میں تابع ہو جیسے کارٹون کی تصویر والے موبائل پاؤچ، بستہ وغیرہ تو ایسی چیزوں کو فروخت کرنا ناجائز نہیں ہے اور اس کی آمدنی بھی حرام نہیں ہے، البتہ  تصویر  والی  چیز  فروخت  کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200570
تاریخ29-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں