بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

سوال

کیا تین مرتبہ  طلاق دینے سے  طلاق ہوجائیں گی یا الگ الگ موقعوں پر تین مرتبہ طلاق دینی ہوگی؟ مثلاً ایک  ماہ میں تین بار یا دو ماہ میں تین بار؟

جواب

ایک مجلس میں تین مرتبہ طلاق دینے سے بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور الگ الگ موقعوں پر عدت کے اندر ہی تین مرتبہ طلاق دینے سے بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔

تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ کریں:

تین طلاق ایک مجلس میں دینا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200535
تاریخ29-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں