بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد ساتھ رہنا

سوال

طلاق کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنا اور اس کو جائز سمجھنا کیسا ہے؟

جواب

ایک یا دو طلاقِ رجعی کے بعد میاں بیوی کا رجوع کرنا یا عدت مکمل ہونے تک رجوع کیے بغیر ساتھ رہنا جائز ہے، البتہ عدت گزر جانے یا طلاقِ بائن یا تین طلاقوں  کے بعد میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہیں، تاہم عدت مکمل ہونے تک مطلقہ بائنہ کو  پردے کے ساتھ رہائش فراہم کرنا شوہر پر لازم ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو  تین طلاق  دینے کے بعد بھی میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتا ہو اور اسے حلال سمجھتا ہو  تو ان کے خاندان کے بڑوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ انہیں مسئلہ سمجھا کر  ساتھ رہنے سے روکیں، اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے معاشرتی مقاطعہ (بائیکاٹ) کریں، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ اپنے گناہ سے توبہ تائب ہوں۔

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے والے سے تعلقات رکھنا

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200511
تاریخ28-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں