بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’فائضہ‘‘ نام کا معنی اور رکھنے کا حکم

سوال

’’ فائضہ‘ نام رکھنا کیسا ہے؟ اور اس کا کیا معنی ہیں؟

جواب

’’فائضہ‘‘ کا ایک معنی ’’فیض یا فائدہ دینے والی‘‘ ہے، اس معنی کے اعتبار سے ’’فائضہ‘‘ نام رکھنا درست ہے۔

تاج العروس (18/ 498)

’’ فَاضَ المَاءُ والدَّمْعُ وغَيْرُهُمَا {يَفِيضُ} فَيْضاً، {وفُيُوضَاً، بالضَّمِّ والكَسْرِ} وفُيُوضَةً {وفَيْضُوضَةً} وفَيَضَاناً، بالتَّحْرِيكِ، أَي كَثُرَ حَتَّى سَالَ كالوَادِي. وَفِي الصّحاح: على ضِفَّةِ الوَادِي، ومِثْلُه فِي العُبَاب. وَفِي الحَدِيث: {ويُفِيضُ المالُ أَيْ يَكْثُرُ. من} فَاضَ الماءُ. فَاضَ صَدْرُهُ بالسِّرِّ، إِذا امْتَلأَ وباحَ بِهِ، وَلم يُطِقْ كَتْمَهُ، وكَذلِكَ النَّهْرُ بمَائِهِ، والإِنَاءُ بِمَا فيهِ. ‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200475
تاریخ27-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں