بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا نماز ادا کرتے وقت اقامت کہنا

سوال

ایک شخص کی نماز قضا ہوگئی اور وہ اس کو فرداً ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کو تکبیر کہنا پڑے گا جیسے ہر نماز میں مؤذن اقامت پڑھتا ہے، پھر امام تکبیر تحریمہ پڑھتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص قضا نماز تنہا پڑھ رہا ہے تو اس کے لیے تکبیر (اقامت) کہنا مستحب ہے، اگر تکبیر کے بغیر بھی نماز ادا کی تو نماز ادا ہوجائے گی اور گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔

البحر الرائق (1/ 280):

"(قوله: وندبا لهما) أي الأذان والإقامة للمسافر والمصلي في بيته في المصر ليكون الأداء على هيئة الجماعة."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 394):

"(قوله: لا تركه) الظاهر أن المراد نفي الكراهة الموجبة للإساءة، وإلا فقد صرح في الكنز بعد ذلك بندبه للمسافر وللمصلي في بيته في المصر. قال في البحر: ليكون الأداء على هيئة الجماعة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200469
تاریخ27-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں