بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرضہ لینا

سوال

آج کل گورنمنٹ آف پاکستان میں بینک کے ذریعے ہاؤس لون دینا شروع کیا ہے، جس میں میزان بینک اور دیگر اسلامی بینک بھی حصہ لے رہے ہیں، کیا یہ قرض لینا جائز ہے؟ اس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ پانچ سے نو فیصد تک سود ہے؟

جواب

بینک کسی بھی قسم کا ہو، اس  سے کسی بھی قسم کا سودی قرضہ لینا جائز نہیں ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں گھر کے لیے دیے جانے والا قرضہ جو کہ سود پر مشتمل ہے، اس کو لینے کی اجازت نہیں ہے۔ مروجہ غیر سودی بینک اس اسکیم میں شرکتِ متناقصہ کی بنیاد پر قرض فراہم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں، اس عقد میں بھی جواز کے تقاضے شرعًا مکمل نہیں ہیں، لہٰذا مذکورہ اسکیم کے تحت گھر بنانے کے لیے مروجہ غیر سودی بینکوں سے بھی قرض لینے کی شرعًا اجازت نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200443
تاریخ26-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں