بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ لڑکے کی مامت کا حکم

سوال

نابالغ لڑکے کی امامت کیسی ہے؟

جواب

بالغ مقتدیوں کی امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے، نابالغ امام کی اقتدا  میں بالغ مقتدیوں کی  نماز  ادا نہیں ہوگی، خواہ فرض نماز ہو یا نفل نماز، البتہ نابالغ  لڑکا اپنے جیسے نابالغ بچوں کی امامت کرلے تو اس میں مضائقہ نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط كونه مسلمًا حرًّا ذكراً عاقلًا بالغًا..."

(باب الإمامة، ج:1، ص:548، ط:ايج ايم سعيد)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"قَالَ: (وَلَا تَجُوزُ إِمَامَةُ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ لِلرِّجَالِ) ... أَمَّا الصَّبِيُّ فَلِأَنَّ صَلَاتَهُ تَقَعُ نَفْلًا فَلَايَجُوزُ الِاقْتِدَاءُ بِهِ، وَقِيلَ: يَجُوزُ فِي التَّرَاوِيحِ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِفَرْضٍ، وَالصَّحِيحُ الْأَوَّلُ لِأَنَّ نَفْلَهُ أَضْعَفُ مِنْ نَفْلِ الْبَالِغِ فَلَا يُبْتَنَى عَلَيْهِ".

(باب صلوة الجماعة، ج:1، ص:58، ط:مطبعة الحلبى)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما غير البالغ؛ فإن كان ذكرا تصح إمامته لمثله من ذكر وأنثى وخنثى".

(باب الإمامة، ج:1، ص:577، ط:ايج ايم سعيد)

 فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200359
تاریخ25-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں