بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنڈے کی پینٹ شرٹ فروخت کرنا

سوال

 پچھلے دنوں مجھے لنڈے کے کاروبار کی سوچ آئي، جس میں پینٹ اور شرٹ کا مال آتا ہے جو مناسب قیمت پر مل جاتا ہے، کیا مسلمانوں کو پینٹ شرٹ بیچنا جو کہ دینی لباس نہیں، تو بندہ گناہ گار تو نہیں ہو گا، اور کیا یہ جائز ہے یا کوئي کراہت ہے؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں لنڈے کے کپڑوں کی خرید وفروخت جائز  ہے۔

باقی ڈھیلے ڈھالے پینٹ شرٹ  پہننا اگر چہ کراہت سے خالی نہیں  اور تنگ چست پینٹ پہننا جس سے جسم کے اعضا کی ساخت واضح ہو  جائز نہیں ہے، لیکن چوں کہ فی نفسہ اس کا جائز استعمال موجود ہے، اس لیے اس کو فروخت کرنا ناجائز نہیں ہے، اور اس آمدنی بھی حرام نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200355
تاریخ25-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں