عقد نکاح میں وکیل کا موکل کی طرف نسبت کرنا
سوال
عقد ِ نکاح میں کیا موکل کا وکیل کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے؟
جواب
غالبًا آپ نے سوال عکس کردیا ہے، اور بظاہر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ عقد نکاح میں وکیل کا موکل (دلہن، یا دولہا) کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کرنا ضروری ہے، ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144204200338
تاریخ24-11-2020

