بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقد نکاح میں وکیل کا موکل کی طرف نسبت کرنا

سوال

عقد ِ نکاح میں کیا موکل کا وکیل کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے؟

جواب

غالبًا آپ نے سوال عکس کردیا ہے، اور بظاہر آپ  کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ عقد نکاح میں وکیل  کا موکل  (دلہن، یا دولہا) کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ  ایسا کرنا ضروری ہے،  ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200338
تاریخ24-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں