حج کے بعد حاجی کہہ کر پکارنا
سوال
جس شخص نے حج ادا کیا ہے، اس شخص کو حاجی کہہ کر بلانا لازمی ہے کیا؟ اس کو اس کے نام سے پکارنا غلط ہے کیا؟
جواب
حج کرنے کے بعد خود اپنے نام کے ساتھ "حاجی" کا لقب لگانا ریاکاری ہے، حج تو اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے، لوگوں سے "حاجی" کہلوانے کے لیے نہیں، دوسرے لوگ از خود "حاجی صاحب" کہیں تو مضائقہ نہیں، لیکن خود اپنے نام کے ساتھ "حاجی" لکھنا یا "حاجی" نہ پکارنے پر برا منانا غلط ہے۔
البحر العمیق (۱/ ۲۹۰) :
"الرابع: من تبطن نفسه الرياء و تخفيه عنه حتى لايكاد يحس به، و ذلك حبه لقول الناس: قد حجّ فلان، ولتقلبه و تسميته بالحج فهي تتوق إلى ذلك و تبهرج عليه بحبّ الحج، وهذا من دقائق الغرور، فيجب الحذر عنه."
(الباب الثاني في الرقائق المتعلقة بالحج و أسراره، الفصل الأول في العزم على الحج و مايتعلق بالسفر،ط: مؤسسة الريان، المكتبة المكية)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

