بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

2 بیوہ، 5 بیٹی، 3 بھائی، 3 بہن میں وراثت کی تقسیم

سوال

ہمارے گھر کے ساتھ دو بیوہ  ہیں، ان کا شوہر فوت ہو گیا ہے، ٹوٹل سرمایہ: 26,03,744‎ (چھبیس لاکھ تین ہزار سات سو چوالیس روپے) ہے۔ دو بیویاں  ہیں، پہلی بیوی کی 5 بیٹیاں ہیں، دوسری بیوی کی کوئی اولاد نہیں ہے، مرحوم کے  3  بھائی اور  3 بہنیں  ہیں۔ برائے مہربانی ان کے درمیان پیسوں کی تقسیم بتادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکے کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے  ایک تہائی  ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل جائیداد کو  2160 حصوں میں تقسیم کرکے  135 حصے مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو، 288 حصے ہر ایک بیٹی کو، 100 حصے ہر ایک بھائی کو اور 50 حصے ہر ایک بہن کو ملیں گے۔

یعنی 26,03,744‎ (چھبیس لاکھ تین ہزار سات سو چوالیس روپے) میں سے 162,734 (ایک لاکھ  باسٹھ ہزار سات سو چونتیس روپے) مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو، 347,165.87 (تین لاکھ سینتالیس ہزار ایک سو پینسٹھ روپے اور ستاسی پیسے)  ہر ایک بیٹی کو، 120,543.70 (ایک لاکھ بیس ہزار پانچ سو تینتالیس روپے اور ستر پیسے) ہر ایک بھائی کو اور 60,271.85 (ساٹھ ہزار دو سو اکھتر روپے اور پچاسی پیسے) ہر ایک بہن کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

ورثاء حصے پیسوں کی تقسیم
 بیوہ  135 162,734
 بیوہ  135 162,734
 بیٹی  288 347,165.87
 بیٹی  288 347,165.87
 بیٹی  288 347,165.87
 بیٹی  288 347,165.87
 بیٹی  288 347,165.87
 بھائی  100 120,543.70
 بھائی  100 120,543.70
 بھائی  100 120,543.70
 بہن  50 60,271.85
 بہن  50 60,271.85
 بہن  50 60,271.85
 مجموعہ 2160 2,603,744

نوٹ: میراث کی مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے  جب  مرحوم کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک  مرحوم کی زندگی میں حیات نہ ہو ، اور بیوہ کی پانچ بیٹیاں مرحوم شوہر سے ہی ہوں۔ بصورتِ  دیگر تقسیم مختلف ہوگی۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200249
تاریخ22-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں