بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاسق معلن کا کیا مطلب ہے؟

سوال

فاسقِ معلن کیا ہے؟

جواب

ہر وہ آدمی جو اطاعتِ خداوندی کو چھوڑ کر گناہ میں مبتلا ہوجائے اس کو ’’فاسق‘‘ کہتے ہیں، اگر کوئی شخص گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو تو ایسے شخص کو ’’فاسق‘‘ کہیں گے اور جو شخص  چھوٹے گناہوں پر اصرار کرے اور مستقل کرتا رہے تو ایسے آدمی کو بھی ’’فاسق‘‘  کہا جائے گا۔

اور جو شخص کھلم کھلا   فسق و فجور  کا مرتکب ہو وہ " فاسق معلن" یعنی کھلم کھلا/ اعلانیہ گناہ کرنے والا  ہے۔ 

الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 140):

"الفسق في اللغة: الخروج عن الطاعة، وعن الدين، وعن الاستقامة.
والفسق في الأصل خروج الشيء من الشيء على وجه الفساد، ومنه قولهم: فسق الرطب: إذا خرج عن قشره. وفي الاصطلاح قال الشوكاني: هو الخروج عن الطاعة وتجاوز الحد بالمعصية.
والفسق يقع بالقليل من الذنوب إذا كانت كبائر ، وبالكثير".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200200
تاریخ21-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں