بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب کے بعد ولادت کی صورت میں عقیقہ کس دن کیا جائے؟

سوال

ایک صاحب کا بیٹا پیر کے روز رات ساڑھے 8 بجے پیدا ہوا۔ آیا پہلا روز پیدائش کا پیر ہی کہلائے گا یا منگل؟

عقیقے کے لیے  ساتواں دن پیر کے حساب سے شمار کیا جائے یا منگل سے؟

جواب

عقیقہ کے دنوں میں دن سے مراد شرعی دن ہے،  اور شرعی دن صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک ہوتا ہے، اور ہر  رات، آنے والے دن میں شامل ہے، اس اعتبار سے سورج غروب ہونے کے بعد بچہ پیدا ہوا تو آنے والا بعد کا دن اس کی ولادت کا دن شمار ہوگا۔

  لہذا صورتِ مسئولہ میں  جب  بچہ کی ولادت مغرب کے بعد ہوئی ہے تو اگلے ہفتہ اس ولادت کے دن سے پہلے والا دن اس کا ساتواں دن ہوگا، مثلاً اگر بچہ کی ولادت  پیر کے دن سورج غروب ہونے کے بعد رات 8 بجے ہوئی ہے  تو وہ رات منگل  کی رات شمار ہوگی، اور اس بچہ کی ولادت کا پہلا دن منگل کا دن کہلائے گا، اور آئندہ  پیر کا دن  اس کا ساتواں دن شمار ہوگا، اس میں عقیقہ کرنا مستحب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200142
تاریخ19-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں