بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا دودھ پینا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

بیوی کا دودھ پینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بیوی کا دودھ  پینا حرام ہے، اس لیے کہ دودھ عورت کے بدن کا جزء ہے اور اجزائے انسانی کا استعمال جائزنہیں ہے، بچوں کے لیے مدتِ رضاعت میں (یعنی بچے کی عمر دو سال ہونے تک) ضرورت کی وجہ سے اجازت دی گئی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 211):

"(ولم يبح الإرضاع بعد موته)؛ لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح، شرح الوهبانية". 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200100
تاریخ19-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں