بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ورثاء میں صرف بیوہ ہونے کی صورت میں بھائی کا حصہ

سوال

ایک بزرگ ہیں، اُن کی اولاد نہیں تھی، بزرگ فوت ہوچکے ہیں،  اُن کی بیوہ ہیں، بزرگ کے نام 10 مرلے جگہ ہے، کیا اس جگہ میں اُس بزرگ کے بھائی کا حصہ بن سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  واقعۃً  مذکورہ شخص کی اولاد نہیں  ہے، تو ان کے ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ (25 فیصد) ان کی بیوہ کو ملے گا، اور باقی ترکہ دیگر ورثاء میں تقسیم ہوگا، اگر مرحوم کے والدین حیات ہیں تو  وہ بھی حق دار ہوں گے، اگر والد حیات نہ ہوں تو پھر مرحوم کے بھائی بہن حق دار ہوں گے، لہذا مکمل ورثاء کی تفصیل بتاکر ان کے حصہ معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200088
تاریخ18-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں