بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختم خواجگان میں شرکت اور اس کی تداعی کا حکم

سوال

مسلکِ  دیوبند سے تعلق رکھنے  والے اہلِ تصوف جو ختم خواجگان اور  ذکر کی مجالس کرواتے ہیں شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ نیز ان مجالس میں شرکت کے لیے دعوت دینا یا اعلان کرنا کیسا ہے؟ جب کہ بعض حضرات اس تداعی کو درست نہیں سمجھ  رہے۔

جواب

واضح رہے کہ پاک و ہند میں ختمِ خواجگان مختلف قسم کے رائج ہیں، جن میں سے بعض میں شرکیہ دعاؤں کی آمیزش بھی موجود ہے؛  لہٰذا اگر ختمِ خواجگان میں شرعی اعتبار سے کسی قابلِ اعتراض ورد و ذکر  کی آمیزش نہ ہو، محض اللہ تعالی کے ذکر اور  خدا تعالی سے دعا وغیرہ پر مشتمل اَوراد  ہوں، تو ان کو پڑھ کر خدا تعالی سے اپنی دنیوی حوائج کی برآری کا سوال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔البتہ چوں کہ تصوف کے مختلف سلسلوں میں ختمِ خواجگان کے پڑھنے کے مختلف طریقے اَکابرین نے ذکر کیے ہیں، اور ان میں سے کوئی طریقہ بعینہ نصوص سے منقول نہیں ہے؛  لہٰذا اس عمل کو  ایک  مباح عمل کے درجہ پہ رکھتے ہوئے  اس کی تداعی نہ کی جائے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200082
تاریخ18-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں