بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر ضرورت کے کتا پالنا اور اس کی خرید و فروخت

سوال

میں نے گھر میں بلا ضرورت کتا پالا ہے اور میں کتوں کا کاروبار بھی کرتا ہوں، ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

بلا ضرورت کتا پالنے کی سخت ممانعت آئی ہے، جہاں کتا ہوتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ  بلا ضرورت کتا پالنے والے کے اعمال  میں سے روزانہ ایک قیراط کم کر دیا جاتا ہے؛ لہذا کتے پالنے سے اجتناب ضروری ہے؛ کیوں کہ انہیں گھر میں رکھنا    خیر  و برکت سے محرومی کا باعث ہے۔

جو کتا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو، اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔ شوقیہ طور پر کتے کی خرید و فروخت سے اجتناب لازم ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

کتے کے پالنے اور خرید و فروخت کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200062
تاریخ18-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں