بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جلد کام کردینے پر مقررہ اجرت سے زیادہ اجرت دینا

سوال

اگر کوئی شخص ایک صحیح کام کرتا ہے جو کہ اس کی نوکری میں شامل ہے، لیکن اسے اس کام کو جلدکرنے کی کچھ رقم ملتی ہے اور رقم دوسرا شخص اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ کیا یہ پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی ملازم کی تنخواہ متعین ہے اور اس کے ذمہ کام مقرر ہے، اور یہ شخص اپنے مقررہ کام کے عوض متعین اجرت سے زائد طلب نہیں کرتا، لیکن جلد کام کرنے یا زیادہ احسن انداز میں ذمہ داری ادا کرنے پر اسے اس کی اجرت سے زائد رقم دی جاتی ہے تو مذکورہ شخص کے لیے اس رقم کا لینا  درست ہے۔

یہ عمومی سوال کا اصولی جواب ہے۔ اگر کسی مخصوص صورت سے متعلق آپ دریافت کرنا چاہتے ہوں تو   مکمل وضاحت کے ساتھ دوبارہ سوال لکھ کر  جواب طلب فرمالیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200058
تاریخ17-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں