بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کے دروازوں میں قدموں کی طرف لگے سپیکر سے قرآن پاک کی تلاوت سننا

سوال

اگر گاڑی کے دروازوں میں سپیکر قدموں کی طرف لگے ہوں تو ایسی صورت میں قرآنِ پاک کی تلاوت یا حمد یا نعتیہ کلام سننا کیسا ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں  گاڑی کے اسپیکرز  سے قرآنِ پاک کی تلاوت یا حمد یا نعتیہ کلام سننا جائز ہے، اس لیے کہ ٹیپ ریکارڈ کی آواز صدائے بازگشت کا حکم رکھتی ہے، یہ حقیقی آواز نہیں، گویا کہ آواز وہاں سے ٹکرا کر آرہی ہے، لہذا اس میں بے ادبی نہیں ہے۔

البتہ جس وقت تلاوت، یا حمد یا نعتیہ اشعار  کی آواز ان اسپیکرز میں سے آرہی ہو تو ان اسپیکرز پر پاؤں نہ رکھنا چاہیے، اور اگر یہ اسپیکر اوپر کروائے جاسکتے ہوں تو انہیں اوپر کروادینا چاہیے۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

"بخلاف السماع من الببغاء والصدى فإن ذلك ليس بتلاوة، وكذا إذا سمع من المجنون؛ لأن ذلك ليس بتلاوة صحيحة؛ لعدم أهليته لانعدام التمييز."

(کتاب الصلاۃ،فصل بیان من تجب علیه سجدۃ التلاوۃ:2/266)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200050
تاریخ17-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں