بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال

کعبے کی چھت پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

کعبۃ اللہ کی چھت پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے نماز کراہت کے ساتھ  ادا ہوجائے گی، کیوں کہ جس مقام پر کعبۃ اللہ ہے وہ زمین اور اس  کی سیدھ میں اوپر آسمان تک قبلہ ہے ، قبلہ کعبہ کی دیوار اور چھت پر محدود نہیں، بلکہ ان چاروں دیواروں کے برابر آسمان تک قبلہ ہے ، اس لیے اگر کوئی شخص ہوائی  جہاز میں کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرےگا تو نماز ہوجائے گی۔ لیکن کعبۃ اللہ کی چھت پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی صورت میں کعبۃاللہ کی بے احترامی ہوتی ہے، اور نبی کریم  ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لیے مکروہِ تحریمی ہے ۔

الدر مع الرد میں ہے:

"قوله هي العرصة والھواء أي: لا البناء بدلیل أنه لو نقل إلی عرصة أخری و صلّی إلیه  لم یجز، و لأنه لو صلی علی أبي قبیس جازت بالإجماع مع أنه لم یصل إلی البناء ... قوله: و إن کرہ الثاني أي الصلاۃ فوقھا، قوله: للنھی؛ لأنھا من السبع التي نھی عنھا رسول اللہﷺ."  (254/2۔ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200046
تاریخ17-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں