بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پب جی گیم کھیلنے والے سے تعلقات رکھنے اور اس سے سلام دعا کرنے کا حکم

سوال

پب جی گیم کے بارے میں فتوی جاری ہونے کے باوجود بھی بعض لوگ اب بھی یہ گیم کھیلتے ہیں۔ کیا ایسے لوگوں سے تعلقات رکھنا یا دعا سلام کرنا جائز ہے؟

جواب

پب جی گیم کے بارے میں جاری شدہ فتوے کی رو سے پب جی گیم کھیلنا بہت سے مفاسد کی بنا پر ناجائز ہے، البتہ تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کا حکم صرف اس شخص کے لیے ہوگا جس نے اس گیم میں پلیئر کو بتوں کے سامنے جھکانے کا عمل کیا ہو۔ اور جس شخص نے مذکورہ عمل کیے بغیر یہ گیم کھیلا ہو وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، البتہ ناجائز کام کرنے کی وجہ سے گناہ کا مستحق ہوگا اور اس پر توبہ و استغفار لازم ہوگا۔

ہماری معلومات کے مطابق پب جی گیم میں اب بتوں کے سامنے اپنے پلیئر کو جھکانے والا موڈ موجود نہیں ہے؛  اس  لیے فتوی جاری ہونے کے باوجود جو شخص پب جی گیم کھیلتا ہو وہ ناجائز امور کے ارتکاب کی وجہ سے گناہ گار تو ضرور ہوگا، لیکن دائرہ اسلام سے نکلنے کی وجہ سے کافر نہیں بنے گا۔

بہرصورت ایسے شخص  سے تعلقات ختم کرنے یا سلام دعا چھوڑنے کے بجائے اسے  نرمی و محبت سے ترغیب دے کر سمجھانا چاہیے کہ وہ اس گناہ کے کام سے توبہ کرلے، اور اس کے باز آنے کے لیے صدقِ دل سے دعا کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200042
تاریخ17-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں