بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ اور تین بہنوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

 ایک آدمی کا انتقال ہوا، ورثاء میں 1 زوجہ، 3 بہن ہیں، ان ورثاء کی موجودگی میں میت کے کزن کی اولاد وارث ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر واقعتًا  مرحوم کے والدین حیات نہیں ہیں،  اور نہ ہی کوئی اولاد موجود ہے اور نہ ہی کوئی بھائی موجود ہے تو  اس صورت میں ترکہ کا   ایک چوتھائی اس کی بیوہ کو اور ترکہ کا دو تہائی  مرحوم کی  تینوں بہنوں میں برابر تقسیم ہوگا، اس کے علاوہ باقی دیگر عصبات میں تقسیم ہوگا، اس لیے حتمی جواب کے لیے میت کے  بھائی کی اولاد موجود ہوتو ان کی تعداد، اور  مرحوم کے چچا اور ان کی اولاد  کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال بھیج سکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200027
تاریخ17-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں