بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی امام کے ساتھ کب سلام پھیرے؟

سوال

 امام کے پیچھے مقتدی سلام کب پھیرے؟ ساتھ ساتھ سلام پھیرے یا امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرے۔ کیا حکم ہے؟

جواب

جماعت کی نماز میں مقتدی کے لیے (جب کہ وہ مسبوق نہ ہو) سلام پھیرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مقتدی امام کی پیروی  اور اتباع کرتے ہوئے امام کے ساتھ  ساتھ  سلام پھیرے، نہ امام سے پہلے سلام پھیرے اور نہ امام کے بعد ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (1 / 352):

"وقوله: مع الإمام بيان للأفضل يعني الأفضل للمأموم المقارنة في التحريمة والسلام عند أبي حنيفة، وعندهما الأفضل عدمها؛ للاحتياط، وله أن الاقتداء عقد موافقة، وإنها في القران لا في التأخير، وإنما شبه السلام بالتحريمة؛ لأن المقارنة في التحريمة باتفاق الروايات عن أبي حنيفة، وأما في السلام ففيه روايتان، لكن الأصح ما في الكتاب، كما في الخلاصة".

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

امام کے ساتھ سلام کب پھیریں؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201586
تاریخ16-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں