بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھینگے کھانے کا حکم

سوال

جھینگے کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 جھینگے  کی حلت اورحرمت  کی بنیاد اس بات پرہے کہ یہ مچھلی ہےیا نہیں؟  جولوگ اس کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں،  اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ اس کی حلت کے قائل نہیں ہیں۔ علمِ لغت اورعلمِ حیوانات کے ماہرین اس کو مچھلی قراردیتے ہیں اوراکثرعلماء کی رائے بھی یہی ہے، ہمارے دارالافتاء کا بھی یہی موقف ہے کہ جھینگا کھاناحلال ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201509
تاریخ14-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں