بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو، چار ماہ تاخیر سے ماہواری آنے کی صورت میں عدت کا حکم

سوال

میرے شوہر نے  مجھے طلاق دی ہے پاکی کی حالت میں، مگر مجھے حیض کبھی دو مہینے بعد آتا ہے، کبھی چار مہینے بعد، حیض کی میری کوئی مدت مقرر نہیں تو اس کے لیے مجھے کتنے ماہ کی عدت گزارنی ہوگی؟

جواب

جس عورت کو ماہ واری  آتی ہو (یعنی وہ چھوٹی بچی یا بہت بوڑھی عورت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا حیض مکمل بند ہوگیا ہے)  اگرچہ دو مہینے بعد ہی کیوں نہ آتی ہو، اس کی طلاق کی عدت مکمل تین ماہواریاں ہیں (اگر حمل نہ ہو)، اور ایسی عورت کی عدت مہینوں کے اعتبار سے نہیں ہوتی، لہذا شوہر کے طلاق دینے کے بعد سے جب آپ  مکمل تین ماہواریوں سے پاک ہوں گی، تب آپ کی عدت مکمل ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 508):

"الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الإياس جوهرة وغيرها"

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201497
تاریخ14-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں