بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے ناقص جملے سے طلاق کا حکم

سوال

ایک  مرد نے  اپنی بیوی سے صرف اتنا کہا کہ "میں نے طلاق ،میں نے طلاق" اس سے زیادہ کچھ نہیں بولا یعنی جملہ مکمل نہیں کیا تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا  مذکورہ شخص نے  صرف اتنا جملہ کہا ہو کہ  "میں نے طلاق ، میں نے طلاق" اور جملہ مکمل نہ کیا ہو تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی؛ کیوں کہ مذکورہ جملہ ایک نامکمل جملہ ہے، تاہم طلاق یا اس کے ہم معنٰی الفاظ استعمال کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 141):

"ومنها الإضافة إلى المرأة في صريح الطلاق حتى لو أضاف الزوج صريح الطلاق إلى نفسه بأن قال: أنا منك طالق، لايقع الطلاق وإن نوى."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201490
تاریخ14-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں