بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماموں کی بیٹی سے بات چیت اور لین دین

سوال

کیا ضرورت کے وقت ماموں کی بیٹی سے بات چیت اور لین دین کرسکتے ہیں؟

جواب

ماموں کی بیٹی شرعًا نامحرم ہے، اس سے پردہ کرنا واجب اور ضروری ہے، اس لیے اگر ضرورت کے موقع پر بات کرنی ہو یا کچھ لینا دینا ہو تو پردے کے اہتمام کے ساتھ کریں اور صرف بقدرِ ضرورت بات کریں، بے پردگی اور بے تکلفی کی شرعًا اجازت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201422
تاریخ12-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں