بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے سر کے بال چھونے سے طہارت کے باقی رہنے کا حکم

سوال

میت کے سر کے بال اگر کسی نے چھو لیے تو اس چھونے والے آدمی کی طہارت باقی رہے گی یا نہیں؟ 

جواب

میت کے سر کے بال یا جسم کا کوئی بھی حصہ چھونے سے چھونے والے کی طہارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، بشرطیکہ میت کے جسم کے اس چھوئے جانے والے حصہ پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو۔ اگر کوئی ظاہری نجاست لگی ہو اور وہ چھولی تو جسم کے جس حصے پر وہ نجاست لگی ہے، (مثلاً: ہاتھ) صرف اسے پاک کرنا کافی ہوگا، پورے وضو یا غسل کی ضرورت نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201409
تاریخ12-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں